ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنميانند کی ضمانت منسوخ کرنے سے سپریم کورٹ کا انکار، مقدمہ دہلی منتقل کرنے پر غور

چنميانند کی ضمانت منسوخ کرنے سے سپریم کورٹ کا انکار، مقدمہ دہلی منتقل کرنے پر غور

Tue, 03 Mar 2020 19:29:33    S.O. News Service

نئی دہلی،3؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے قانون کی طالبہ کی عصمت دری کے ملزم اور سابق مرکزی وزیر چنميانند کو ملنے والی ضمانت کو مسترد کرنے سے منگل کو صاف انکار کر دیا۔ تاہم عدالت نے سابق مرکزی وزیر کے خلاف آبروریزی کے مقدمے کو دہلی منتقل کرنے سے متعلق الگ درخواست پر اتر پردیش کی حکومت، ملزم چنميانند اور دیگر کو نوٹس جاری کیا۔

جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس نوین سنہا کی ڈویژن بنچ نے متاثرہ کے والد ہریش چندر شرما کی جانب سے پیش سینئر وکیل کولن گنزالویس کی دلیلیں سننے کے بعد منتقلی کی درخواست پر ریاستی حکومت، سوامی چنميانند اور دیگر کو نوٹس جاری کرکے چار ہفتوں کے اندر جواب دینے کو کہا۔ بنچ نے اگرچہ چنمياند کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ملنے والی ضمانت مسترد کرنے کی فریادی کی درخواست ٹھکرا دی۔

اس درخواست کی سماعت کل اس وقت ملتوی ہو گئی تھی جب جسٹس آر بھانومتی نے سماعت سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ اس کے بعد آج نئی بنچ میں عرضی سماعت کے لئے درج کی گئی تھی۔ قابل غور ہے کہ متاثرہ کے والد نے درخواست میں کہا ہے کہ چنميانند رسوخ دار آدمی ہیں اور ان کے اہل خانہ کو جان کا خطرہ ہے۔ انہوں نے چنميانند کے خلاف مقدمہ کی سماعت دہلی میں کرانے کی درخواست کی ہے۔

چنميانند کو گزشتہ سال 20 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کا ٹرسٹ شاہجہاں پور لاء کالج چلاتا ہے۔ متاثرہ اسی کالج میں پڑھتی تھی اور چنميانند نے مبینہ طور پر اس کی عصمت دری کی تھی۔ لاء کی 23 سالہ طالبہ نے جنسی تشدد کا الزام لگاتے ہوئے ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر ڈالا تھا، اس کے بعد گزشتہ سال اگست میں کچھ دنوں تک اس کا کوئی پتہ نہیں لگا تھا جس کے بعد عدالت نے اس معاملے میں دخل دیا تھا۔ عدالت کی ہدایت پر تشکیل اترپردیش پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے چنميانند کو گرفتار کیا تھا اور بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ نے تین فروری کو اسے ضمانت دے دی تھی۔


Share: